45

پاکستانی نظام عدل میں نئی تاریخ رقم، چیف جسٹس آف پاکستان نے اچانک ایسا علان کر دیا کہ سائلین جھولیاں اُٹھا کر دعائیں دینے لگے

پاکستانی نظام عدل میں نئی تاریخ رقم، چیف جسٹس آف پاکستان نے اچانک ایسا علان کر دیا کہ سائلین جھولیاں اُٹھا کر دعائیں دینے لگے۔۔۔۔۔چارسدہ (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان نے اس وقت سب کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کردیا جب انہوں نے وکلا کو مخاطب کرکے کہا ’ہے کوئی سائل

جو مجھ سے سوال کرے اور میں یہیں کھڑے کھڑے اس کا فیصلہ کردوں ‘۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے چارسدہ بار کی تقریب سے خطاب کے دوران وکلا کو مخاطب کرکے کہا وہ یہاں مانگنے کیلئے آئے ہیں ان کے پاس دینے کیلئے کچھ نہیں ہے، ’میں آپ سے تعاون اور محبت مانگتاہوں تاکہ عوام کو بنیادی حقوق مل سکیں کیونکہ عوام کو حقوق آپ کی مدد سے مل سکتے ہیں‘۔چیف جسٹس نے کہا کاش میرے پاس کوئی سال آئے اور کہے میرا یہ مسئلہ ہے ، میرے ساتھ جسٹس عمر عطا بندیال موجود ہیں، میں یہیں کھڑے کھڑے اس کو اس کا حق دلواﺅں گا۔ انہوں نے وکلا کو مخاطب کرکے کہا ’ہے کسی کا پرابلم جو مجھے بتائے، آپ کے بنیادی حقوق کی فراہمی کیلئے ہروقت حاضر ہوں‘۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اللہ نے ہمیں ایک فریضہ انجام دینے کی فضیلت بخشی ہے،تمام لوگوں کو اس کمپلیکس کے حوالے سے مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔انسٹی ٹیوشنز میں عمارت صرف ایک نشانی ہوتی ہے لیکن انسٹی ٹیوشنز شخصیات سے بنتی ہیں ۔قومیں علم،لیڈرشپ ،جوڈیشل سسٹم اور انسٹی ٹیونشنز کے اچھے اقدامات سے ہی ترقی کرتی ہیں ۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کو انصاف کی فراہمی کے

لیے اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔قوانین کو اپڈیٹ کرنا جوڈیشری کا کام نہیں ہے لیکن ان قوانین پر عمل کروانا عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔پا کستان کی ترقی اور خوشحالی کیلیے عدلیہ کو ڈلیور کرنا ہو گا۔جن لوگوں کو انصاف نہیں ملتا ،انہیں کیوں نہیں ملتا؟انہوں نے کہا کہ لوگ انصاف حاصل کرنے کیلیے سالوں سال انتظار کیوں کرنا پڑتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ تحصیل لیول پر کام کرنے والے تجربہ کار وکیل اور تمام عدلیہ کے عہدادران سے کہتا ہوں کہ فیصلوں میں تاخیر کا عمل ختم کرنے کیلیے تجاویز دیںتا کہ ایک سول مقدمے کا فیصلہ چند ماہ میں کر سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ فیصلوں میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے تا کہ لوگوں کو انصاف کی فراہمی جلد مہیا کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ میں آج بھی ان کیسز کی سماعت کر رہا ہوں جو 1985میں دائر ہوئے تھے۔وقت آگیا ہے جو ڈیشری کو ڈلیور کرنا ہو گا ،بار اور بنچ کو مل کر چند ماہ میں فیصلے کرنے ہوں گے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ میںیہاں مانگنے آیا ہوں دینے کیلیے میرے پاس کچھ نہیں ہے۔اگر تمام لوگوں کو تعاون دینے کے ضذبے ساتھ چلیں گے تو کسی کا استحصال نہیں ہو گااور لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ تمام سو موٹو ایکشن انسانی بنیادی حقوق کے تحت لیے گئے ہیں ۔تعلیم ایک بنیادی حق ہے اس کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر لوگوں کو انصاف اور ان کے حقوق نہین ملیں گے تو یہ عمارت پتھر کی ہی رہ جائے گی۔چیف جسٹس نے کہا کہ آج کہتا ہوں کوئی بھی انہیں بتائے جس کو اپنے بنیادی حقوق نہیں مل رہے ۔ہیومن رائٹس کے حوالے سے کسی کو بھی کوئی مسئلہ ہو گا تو حل کروانے لیے وہ ہر ممکن کو شش کریں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں