81

تصویر میں نظر آنے والی کراچی کی یہ 3 خوبصورت لڑکیاں کون ہیں اور کونسا شرمناک کام کرتی ہیں؟ حیرت کے جھٹکے کے لیے تیار ہوجائیں

کراچی (ویب ڈیسک )کراچی پولیس نے بھتہ خوری کرنے والی لڑکیوں پر مبنی گینگ کو بے نقا ب کر دیاہے اور گینگ کی سرپرستی کرنے والے پولیس اہلکار کو بھی حراست میں لے لیا ۔نجی ٹی وی 92 نیوز کے مطابق پولیس نے سات لڑکیوں پر مشتمل بھتہ خور گینگ کو بے نقاب کر لیا۔

جس میں سات لڑکیاں شامل ہیں جبکہ پولیس اہلکار اور دو لڑکے بھی شامل ہیں ۔ پولیس کے مطابق یہ لڑکیاں پہلے لڑکوں سے دوستیاں کرتی تھیں پھر ان سے ان کی تصاویر مانگتی اور پیسے بھی تاہم بعدمیں ان سے بھتہ بھی طلب کر تی تھیں جبکہ یہ گینگ تاجروں سے بھی بھتہ لے چکا ہے ۔پولیس کا کہناہے کہ گینگ کی دو لڑکیوں کو لیاقت آباد سے گرفتارکر لیا گیاہے ۔اور دوسری جانب ایک خبر کے مطابق گست 2016 میں الطاف حسین نے جب پاکستان مردہ باد کے نعرے لگوائے تو نیشنل ایکشن پلان کو ایک طرف رکھ کر حکومت نے پوری شدت سے گفتار کے اس غازی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا اور کردار کے ان غازیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جو کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے تھے اور کراچی کو فنڈنگ کا مرکز بنا چکے تھے۔حکومت کو نہایت خفیہ اور غیر خفیہ ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کی بنا پر یہ یقین ہو چکا تھا کہ ایم کیو ایم بھتہ خوری، بوری بند لاشوں اور ٹارچر سیلوں کے علاوہ بھارتی ایجنسی را کے علاقائی مراکز بھی چلاتی ہے۔ اس لیے پوری شدت سے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن شروع کر دیا گیا اور جس عمارت پر ایم کیو ایم کا جھنڈا اور جس شخص کے چہرے پر ایم کیو ایم کا سٹکر دکھائی دیتا، اسے ڈھا دیا جاتا۔ ہر طرف سے صدائیں بلند ہونے لگیں کہ مار دو، مار دو، ایم کیو ایم کو مار دو! ایک مہینے تک ہیوی مشینری استعمال کیے جانے کے بعد ستمبر کے اواخر سے شہری سندھ سے ایم کیو ایم کا مکمل خاتمہ ہو گیا اور اس کا کوئی نام لیوا باقی نہ رہا۔ لیکن کراچی ویسا ہی باقی رہا جیسا کہ تھا۔(ش۔ز۔م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں