475

کیا آپ جانتے ہیں ۔۔؟ ایک ایسا اسلامی ملک جہاں ”فحاشی“کا تہوار ایک سال میں 7مرتبہ منایا جاتا ہے

جکارتہ (ویب ڈیسک )مادر پدر آزاد غیر مسلم جنسی ممالک اور معاشروں میں فحاشی اور ہم جنسی پرستی کے حوالے سے تہوار منائے جانے کی خبر یں آنا کوئی انوکھی بات نہیں لیکن یہ جان کر آپ کو یقینی طور پر حیرت ہوگی کے برادر اسلامی ملک انڈو نیشیا میں فحاشی کا ایک تہوار سالانہ سات بار منایا جاتا ہے ۔

مقامی لوگوں کی جانب سے اس تہوار کو ”پان فیسٹیول “ کا نام دیا گیا ہے جو انڈو نیشیا کے جزیرے بالی میں” گننگ کموکس “نامی پہاڑ پر واقع ایک در گاہ کے آس پاس رات کے وقت منایا جاتاہے ۔اس تہوار کے ساتھ ایک عجیب و غریب روایت کو جوڑا گیا ہے جس کے مطابق ایک شہزادہ اور شہزادی جو آپس میں محبت کرتے تھے لیکن شاہی خاندان کو ان کاملاپ منظور نہ تھا جس پر وہ محلات سے فرارہوکر اس پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گئے اور بادشاہ کے حکم پر ان کا پیچھا کرتے مسلح فوجیوں نے ان کو اس وقت موت کے گھاٹ اتار دیا جب وہ جنسی عمل میں مصروف تھے ، بعد میں ان کی قبر کے گرد ایک مزار بنا دیا گیا اور یہ بات مشہور ہوگئی کہ ہر اس مرد یا عورت کی دعا قبول ہوگی جو اس پہاڑ پر آکر رات کے وقت کسی اجنبی کے ساتھ جنسی عمل کرے اور اس کام کیلئے ہر 35دن بعد ایک دن مقرر کیا گیا جس کو ”پان فیسٹیول “ نام دیا گیا ۔ انڈونیشیا میں یہ تہوار صدیوں سے منا یا جا رہا ہے ، ہر تہوار سے قبل ملک بھر سے منتیں مانگنے والے مرد اور عورتیں دور داز کا سفر کے یہاںپہنچتے ہیں اور شام ہونے سے قبل ہر ایک اپنے اپنے اجنبی ساتھی کی تلاش شروع کردیتا ہے اور رات ہوتے ہی اس علاقے میں منتوں کی منظوری کیلئے فحاشی کا عمل شروع ہو جاتا ہے جس کے بارے میں عقید ہ ہے کہ جنسی عمل کے دوران مارے گئے شہزادے اور شہزادی کی روحیں اجنبی لوگوں کو آپس میں مشغول دیکھ کر خوش ہوتی ہیں اور نتیجے میں ان کی مرادیں پوری ہو جاتی ہیں۔اگرچہ حکومت کی جانب سے اس تہوار کو روکنے کیلئے کئی بار کوششیں کی گئی ہیں لیکن عوام کے پختہ اعتقاد اور رسم و رواج میں اس کی جڑیں گہری ہونے کے باعث حکومتی کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں