1,033

بیس سال بعد ایک انجان نمبر سے کی کال آئی۔۔ لائن پر مسلسل خاموشی اور دبی دبی سسکیاں ۔۔۔ میں نے اسے پہچان لیا ، پڑھیے دل چیر دینے والی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک ) طویل بیس سال بعد کسی نا مانوس نمبر سے اس کی کال آئی تھی. لائن پر مسلسل خاموشی اور دبی دبی سسکیوں سے میں نے اس کو پہچان لیا تھا. اس کی آخری کال بھی سسکیوں اور ہچکیوں کے درمیان ختم ہوئی تھی. اور آج دو عشرے گزرنے بعد

بھی میں نے انہی ہچکیوں اور سسکیوں سے اس کو فوری پہچان لیا تھا. میرا دل انتہائی شدت سے دھڑکنے لگا تھا گویا کہ آج وہ پسلیوں کے پنجرے سے رہائی پا لے گا. وسوسوں اور اندیشوں کے عجیب سے سنپولیے میرے دل میں رینگنے لگے اور میں ان لمحوں کوکرنے لگا جب آخری بار میں نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر وعدہ لیا تھا کہ وہ مجھے بھول جائے گی اور خود کو حالات کے سپرد کر دے گی کہ اسی میں ہم دونوں کے خاندان کی عزت اور بھلائی تھی. اور اس نے میری بات مان لی اور دو عشرے ایسے گزرگئے تھے کہ گویا وقت کی ایک ہی کروٹ میں سما گئے تھے اور آج؟آج جب وقت اور حالات کی قید سے فرار ہو کر اس نے مجھے کال کر دی تھی تو اندیشوں کے ایک طوفان نے مجھے جکڑ لیا تھا. کیا اب زندگی کی وہ قربانی جو ہم نے ایک دوسرے کے لیے دی تھی ضائع ہونے والی تھی؟ کیا وہ حالات سے بغاوت کا اعلان کرنے والی تھی؟ کیا ہماری بمشکل سنبھلی زندگی میں کوئی اور افتاد آنے والی تھی؟یہ سوچ سوچ کر میری روح تک دکھنے لگ گئی تھی اور سسکیوں کی بلند ہوتی آواز میری نسوں پر برق بن کر گرنے لگی تھی. مجھے شدید گھٹن اور حبس کا احساس ہونے

لگا, جسم پر کپکپی طاری ہو گئی اور میں نے اپنے ہی پسینے میں تر بتر ہو کر پنکھے کے بٹن کی طرف ہاتھ بڑھایا تو یاد آیا کہ بجلی حسبِ معمول صبح سے گئی تھی اور کسی بے وفا کی طرح ابھی لوٹ کر نہیں آئی تھی. مجھے اب سسکیوں کے درمیان ہچکیوں کی آواز سنائی دینا شروع ہو گئی اور میرا دل اچھل کر حلق میں آ گیا. آخر میں نے بمشکل ہمت مجتمع کی اور فقط اتنا ہی کہہ پایا،” پینو آخر ہویا کی اے؟ کجھ بول تے سہی” (What happened peeno? At least say something.”)اس نے ہچکیوں کے درمیان کہا، ” وے بشیریا میں تیری اک گل منی سی، تینوں میرا واسطہ توویں میری اک گل من لئیں” اور یہی وہ لمحہ تھا جو میرے لئیے اعصاب شکن ثابت ہو سکتا تھا. اور یہیں مجھے اپنے آپ کو سنبھالنا تھا. میں نے دیوار کا سہارا لے کرایک لمبا سانس لیا، دل پر ہاتھ رکھ کر خود کو آنے والی افتاد کیلئے تیار کیا, تھوک نگل کر گلے کو تر کیا اور فقط اتنا ہی کہہ پایا،”بول پینو!” دوسری طرف چند ثانیے کے لیے بالکل ایسی گھمبیر خاموشی چھا گئی جیسے کسی طوفان سے پہلے چھا جاتی ہے اور اس کے درمیان اسکی منمناتی ہوئی التجا بلند ہوئی، “ایس واری گنجیاں نوں ووٹ ناں دیویں”میں ہیلو ہیلو کرتا رہ گیا مگر شاید اب مزید بیس سال کے لیے لائن خاموش ہو چکی تھی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں