23

عمران حکومت کے آئی ایم ایف کے پاس جانے یا دوست ممالک سے قرض لینے میں کیا فرق ہے اور دونوں صورتوں میں فائدے نقصانات کیا ہیں ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ ملاحظہ کیجیے

لاہور (ویب ڈیسک) تحریک انصاف کے حکومت میں آنے کے بعد پہلے سب سے بڑے یوٹرن پر ابھی تک تبصرے کیے جا رہے ہیں ، کوئی ان کے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے حق میں ہے تو کسی کا موقف ہے کہ انہیں آئی آیم ایف کی بجائے و برادر اسلامی ممالک سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ ہم عالمی ساہو کار کے چنگل سے نکل سکیں ۔ اس ضمن میں کل مشہور اور معتبر ویب سائٹ بی بی سی نے ایک جاندار رپورٹ پبلش کی ہے جس میں عمران خان کے آئی ایم ایف اور دوست و برادر اسلامی ممالک کے پاس جانے اور نہ جانے کے فائدے اور نقصانات گنوائے گئے ہیں

بی بی سی کے نمائندے آصف فاروقی لکھتے ہیں ۔۔۔۔آئی ایم ایف سے جب کوئی ملک قرض مانگنے کا ارادہ کرتا ہے تو سب سے پہلے اسے ایک باضابطہ تحریری درخواست اس کے سامنے پیش کرنا ہوتی ہے۔ عام طور پر ایسا اس ملک کے وزیراخزانہ ذاتی طور پر آئی ایم ایف کے دفتر میں جا کر کرتے ہیں۔اس درخواست میں اس قرض کے حصول کی وجہ اور اپنا ماضی کا ریکارڈ بتایا جاتا ہے تاکہ ثابت کیا جائے کہ اس ملک کے لیے یہ قرض لینا کتنا ضروری ہے اور یہ کہ ماضی میں اس ملک نے قرض لے کر اس کا درست استعمال بھی کیا اور قرض واپس بھی کیا۔آئی ایم ایف اپنے اجلاس میں اس درخواست کا سرسری جائزہ لے کر قرض دینے کی اصولی منظوری دیتا ہے۔ پاکستان کے معاملے میں یہ دونوں مراحل مکمل ہو چکے ہیں اور اب تیسرا مرحلہ درپیش ہے یعنی کہ اس درخواست کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔آئی ایم ایف صرف ان ملکوں کو قرض جاری کرتا ہے جو معاشی بحران کا شکار ہوں۔ آئی ایم ایف کی مشن سٹیٹ منٹ کہتی ہے: ’آئی ایم ایف ان ملکوں کی مدد کرتا ہے جو معاشی بحران سے دوچار ہوں تاکہ انھیں معاشی استحکام لانے کے لیے اپنی معاشی پالیسیاں بہتر بنانے کا موقع مل سکے۔‘ان دنوں آئی ایم ایف کا ایک جائزہ مشن پاکستان میں ہے۔ سب سے پہلے وہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان کو کس قسم کے معاشی بحران کا سامنا ہے۔ اس کے لیے وہ پاکستانی خزانے کی بیلینس شیٹ کا جائزہ لے گا تاکہ پتہ چل سکے کہ پاکستانی خزانے میں کتنے پیسے ہیں اور اخراجات کتنے ہیں۔

اسی سے اندازہ ہو جائے گا کہ پاکستان کو درپیش معاشی بحران کتنا سنگین ہے۔ جب یہ بات طے ہو جائے گی کہ پاکستان کو واقعی پیسوں کی اشد ضرورت ہے اور آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر یہ بحران ختم نہیں ہو گا اس کے بعد آئی ایم ایف یہ طے کرے گا کہ حکومت کو وہ کیا اقدامات کرنے چاہییں جس سے یہ بحران ٹل سکے۔جب آئی ایم ایف یہ طے کرتا ہے کہ قرض لینے والے ملک کو اپنے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے بعض اقدامات کرنے چاہییں تو وہ اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ وہ ملک یہ اقدامات ضرور کرے۔ ان اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے آئی ایم ایف یہ اقدامات کرنےکی حکومت سے تحریری یقین دہانی لیتا ہے۔ انھی کو آئی ایم ایف کی شرائط کہا جا سکتا ہے۔ یہ شرائط اس معاہدے کا حصہ ہوتی ہیں جس کے تحت قرض جاری کیا جاتا ہے۔بعض اقتصادی ماہرین آئی ایم ایف کو تنگ نظر معاشی پالیسی کا حامل قرار دیتے ہیں کیونکہ اس کے پاس دنیا بھر کے ملکوں کے معاشی بحرانوں کو حل کرنے کا ایک ہی فارمولا ہے۔ اور وہ فارمولا ہمیشہ ایک سا رہتا ہے اور آئی ایم ایف کی ویب سائیٹ پر موجود بھی ہے۔

آئی ایم ایف حکام ہمیشہ برآمدات بڑھانے، شرحِ سود بڑھانے، سبسڈیز ختم کرنے، مقامی کرنسی کی قدر کم کرنے اور بجٹ خسارہ کم کرنے کے اقدامات تجویز کرتا ہے۔ یہ وہ بنیادی ڈھانچہ ہے جس کے گرد آئی ایم ایف کی شرائط گھومتی ہیں اور پاکستان کے لیے بھی اس نوعیت کی شرائط ہوں گی۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ قرض لینے والا ملک اپنے کوٹے کے مطابق قرض لیتا ہے یا اس سے زیادہ۔ اس وقت پاکستان کا کوٹہ جس حد تک وہ قرض لے سکتا ہے وہ دو سے تین ارب ڈالر تک ہے۔ لیکن کوئی بھی ملک اپنے کوٹے سے زیادہ قرض بھی لے سکتا ہے۔ پاکستان کے پاس اپنے کوٹے سے چار سو فیصد سے زائد قرض لینے کی سہولت موجود ہے۔ لیکن کوٹے سے زیادہ قرض لینے میں مسئلہ یہ ہے کہ جوں جوں قرض کی مقدار کوٹے سے بڑھتی چلی جاتی ہے، آئی ایم کی شرائط پر عمل کرنا بھی اتنا ہی ٰضروری ہوتا چلا جاتا ہے۔ مثلاً اگر پاکستان اپنے کوٹے کے مطابق دو سے تین ارب ڈالر لیتا ہے تو وہ ان شرائط کو بہت حد تک نظر انداز کر سکتا ہے لیکن اگر اپنے کوٹے کی آخری حد سے بھی زائد قرض لیتا ہے تو ان کے علاوہ بعض نئی شرائط بھی عائد ہوں گی جن پر سو فیصد عمل بھی ضروری ہو جائے گا۔ اسی بنا پر وزیراعظم عمران خان کی کوشش رہی ہے کہ آئی ایم ایف کے بجائے کسی دوست ملک سے ضرورت کا کچھ قرض لے لیا جائے تاکہ ان کڑی شرائط سے کسی حد تک بچا جا سکے۔یہی فرق ہے کسی دوست ملک سے قرض مانگنے اور آئی ایم ایف کے پاس قرض کی درخواست لے کر جانے میں۔(ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں