122

شرفو

حاجی صاحب کچھ پیسے مل جائیں گے‘میری بیوی سخت بیمار ہے‘شرفو نے ہاتھ جوڑکر ان سے درخواست کی۔ وہ حاجی صاحب کا ڈرائیور تھا۔کئی برسوں سے ان کے ہاں ملازم تھا۔پیچھے کچی بستی کی جھگیوں میں رہتا تھا۔کوئی اولاد نہ تھی۔بس وہ اور اس کی بیوی رحیماں،جو اس کی کل کائنات تھی۔ کیوں ‘ کیا ہوا

اسے‘حاجی صاحب نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔پتا نہیں صاحب‘سرکاری ہسپتال میں دکھایا ہے‘ ڈاکٹر کہتا ہے آپریشن ہوگا‘اس کے چہرے پر تشویش کے سائے تھے۔ٹھیک ہے مل جائیں گے‘پریشان مت ہو‘ انہوں نے شرفو کا کاندھا تھپ تھپا کر اسے تسلی دی ”مہربانی صاحب“زمین پر بیٹھے شرفو نے اپنا رومال سمیٹا‘ہاتھ جوڑے اور الٹے قدموں چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا‘ کئی دن گزر گئے‘رحیماں کی طبیعت سنبھل نہیں رہی تھی‘شرفو جیسے تیسے اس کی دوا کرتامگر حاجی صاحب سے دوبارہ بولنے کی ہمت نہیں تھی‘شاید حاجی صاحب بھول گئے ہیں‘وہ رحیماں کے پوچھنے پر اسے کہتااور پھر انتظار کی گھڑیاں گننے لگتا۔آج حاجی صاحب حج پر روانہ ہو رہے تھے۔وہ ہر سال حج پر جاتے تھے‘بڑی دعوت کا اہتمام ہوا‘بہت سے لوگ آئے‘کھانا ہوا‘ہار پھول پہنائے گئے‘پورا گھر برقی قمقموں سے سجایا گیا‘ ہر طرف خوشیاں تھیں‘مسکراہٹیں تھیںلیکن شرفو اندر ہی اندر گھل رہا تھا‘اسے ڈر تھا کہ حاجی صاحب چلے گئے تو بہت دن بعد لوٹیں گے۔اس نے تہیہ کر لیا کہ آج ان سے دوبارہ پیسے مانگے گا۔ جب گاڑیاں ائیر پورٹ کی طرف روانہ ہوئیں تو شرفو نے موقع اچھا جانا اور ایک مرتبہ پھر ہمت کی۔صاحب! وہ کچھ پیسے۔۔۔بیوی کی طبیعت“الفاظ اس کے حلق میں اٹک گئے۔ ”ہاںہاں‘ یاد ہے مجھے‘ابھی دیکھو دعوت وغیرہ میں کافی پیسے خرچ ہو گئے ہیں۔حج کے اخراجات الگ ہیں۔آکر دوں گا“حاجی صاحب کے لہجے میں سختی تھی۔ شرفو کی آنکھوں میں پانی تیرنے لگا۔اس کا دل چاہا کہ چیخ چیخ کر رو دے۔اس سے پہلے کہ اس کے آنسو چھلک جاتے‘اس نے ہونٹ بھینچے‘ضبط کیا اور جلدی جلدی رومال سے اپنی آنکھیں صاف کر لیں۔ لوگوں نے حاجی صاحب کو گلے لگا کر الوداع کہا۔جس وقت جہاز نے حجاز مقدس کی طرف اڑان بھری عین اسی وقت شرفو کی بیوی جھگی میں سسک سسک کر دم توڑ گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں