413

یہ تو ہونا ہی تھا : سابق سربراہ پر خردبرد کا الزام ۔۔۔ عدالت نے 14 برس قید کی سزا سنا دی

بیجنگ (ویب ڈیسک) چین کی ایک عدالت نے بیجنگ کے سابق میئر اور ملکی سطح پر انٹرنیٹ کے شعبہ سے وابسطہ ہائی پروفائل عہدیدار کو 46 لاکھ ڈالر رشوت وصول کرنے پر 14 برس قید کی سزا سنادی، خبررساں اداے ’اے پی‘ کے مطابق انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ نے مجرم لیوی کی جانب سے

رشوت وصول کرنے کے اعتراف پر انہیں سزا سنائی، واضح رہے کہ لیوی کو چین کی کمیونسٹ پارٹی میں غیرمعمولی اہمیت حاصل رہی اور انہی کی وجہ سے حکومت نے عام صارفین کو فراہم کی جانے والی انٹرنیٹ سروس پر کنٹرول کو سخت رکھا اور انہوں نے انٹرنیٹ پر سینسر اور فلٹر کے حق کی حمایت کی تھی، لیوی ان اعلیٰ عہدیداروں میں شامل رہے جنہوں نے اپیل کے سی او ٹم کوک اور فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کے ہمراہ متعدد میٹنگ کی، لیوی نے اپنے خلاف فیصلے کو چینلج نہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، اس حوالے سے بتایا گیا کہ ’چین میں تقریباً 70 کروڑ انٹرنیٹ صارفین ہیں لیکن انہیں حکومت کی جانب سے سیاسی نوعیت کے مواد پر سخت کنٹرول رائج ہے، چین میں فیس بک سمیت دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس سمیت گوگل پابندی کے باعث غیر فعال ہیں، عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ’لیوی نے بطور نائب وزیر پروپیگنڈہ اور سربراہ انٹرنیٹ سیکیورٹی ایڈوائزر باڈی اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور ’نوازنے‘ کے بدلے میں تحائف وصول کیے، واضح رہے کہ لیوی 2011 سے 2013 میں بیجنگ کے میئر بھی رہے، چین کے صدر شی جن پنگ کی جانب سے کرپشن کے خلاف شروع کی جانے والی مہم میں کئی بڑے افسران کے علاوہ اپنی ہی پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں سمیت سینیئر وزرا کو بھی پھانسی دی جاچکی ہے، اس سے قبل 29 نومبر کو سینٹرل ملٹری کمیشن کے رکن زینگ یانگ نے اپنے خلاف ہونے والے کرپشن کی تفتیش کے پیش نظرخودکشی کرلی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں