116

پڑھی لکھی خوبصورت پاکستانی لڑکی دبئی میں کیا شرمناک کام کرتے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی ۔۔؟قوم کا سر شرم سے جھکا دینے والی خبر

دُبئی(ویب ڈیسک ) پولیس نے ایک پاکستانی خاتون کو جسم فروشی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ استغاثہ کے مطابق گرفتار کی گئی 36 سالہ خاتون ایک دفتر میں اکاؤنٹنٹ کی ملازمت کرتی تھی تاہم اُس کے بارے میں خفیہ ذریعے سے اطلاع مِلی کہ وہ نائف کے علاقے میں جسم فروشی کا دھندہ بھی کرتی ہے۔

پولیس کی جانب سے پہلے اس خبر کی تصدیق کی گئی۔پھر سرکاری استغاثہ سے رابطہ کر کے خاتون کے خلاف وارنٹ گرفتاری حاصل کیے گئے اور اُسے رنگے ہاتھوں گرفتار کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا گیا۔ ہمارے مخبر نے پاکستانی جسم فروش خاتون سے رابطہ کر لیا جس نے خود کو گاہک ظاہر کرتے ہوئے خاتون سے جنسی عمل کی خواہش کا اظہار کیا۔ خاتون نے دوہزار درہم کے عوض جنسی عمل کے لیے آمادگی ظاہر کر دی۔دونوں کے درمیان جگہ اور مقام طے کیا گیا۔ مقررہ وقت پر خاتون ایک ہوٹل کے باہر گاڑی سے اُتری اور مخبر کے بتائے گئے کمرے میں چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد جب منصوبے کے مطابق چھاپہ مارا گیا تو خاتون برہنہ حالت میں تھی اور اُس کے پرس میں گاہک سے جنسی عمل کے عوض وصول کیے گئے دو ہزار درہم بھی موجود تھے۔ خاتون کو گرفتار کر کے پولیس اسٹیشن لے جایا گیا جہاں اُس نے اعتراف کیا کہ وہ ہوٹل جسم فروشی کی غرض سے گئی تھی اور گزشتہ تین ماہ سے اس دھندے میں ملوث ہوکر ہزاروں درہم کما چُکی تھی۔خاتون کے مطابق اُس نے دُبئی کے مختلف ہوٹلوں میں اس سے قبل نو افراد کے ساتھ جنسی عمل کیا۔ وہ اپنے گاہکوں سے چار سو درہم سے پانچ سو درہم کے درمیان معاوضہ وصول کرتی تھی۔ خاتون کے خلاف استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے بھرپور شواہد اور پولیس اہلکاروں کی گواہی کے باعث قومی امکان ہے کہ اس مقدمے کی 26 نومبر 2018ء کو ہونے والی اگلی سماعت کے دوران سخت سزا سُنائی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں