108

شاطر جاسوس

جاسوسی کی تاریخ میں چین کے ایک جاسوس کا قصہ خصوصی مقام رکھتا ہے جس نے اپنی حیرت انگیز فنکاری سے ایک فرانسیسی سفارتکار کے سامنے خود کو خاتون بنا کر پیش کیا اور کئی سال تک اس کی بیوی بنا رہا، حتیٰ کہ ایک بچے کو جنم دینے کا کامیاب ڈرامہ بھی کیا۔ شوہ نامی

چینی شخص موسیقی اور رقص کا ماہر تھا اور فرانسیسی سفارتکار ورناڈ بوسیکاٹ کے ساتھ اس کا معاشقہ 1960ءکی دہائی میں شروع ہوا۔ چند ملاقاتوں کے دوران ہی فرانسیسی سفارتکار چینی جاسوس کے حسن کا اسیر ہوگیا۔ شوہ ہر وقت زنانہ حلیہ اختیار کئے رکھتا اور خوبصورت لباس اورمیک اپ کا استعمال کرتا جس کی وجہ سے وہ بظاہر ایک دلکش دوشیزہ نظر آتا تھا۔ جب دنوں کی قربت بڑھی تو شوہ نے برناڈ کو بتایا کہ اس کی پیدائش ایک لڑکی کے طور پر ہوئی تھی لیکن چونکہ اس کے والدین کی نرینہ اولاد نہ تھی لہٰذا انہوں نے اسے لڑکوں کی طرح پالنا شروع کردیا۔ اس نے بتایا کہ بعد ازاں اسے ہارمون بھی دئیے گئے جس کی وجہ سے اس کے جسم میں کچھ مردانہ خصوصیات پیداہوگئیں لیکن اصل میں وہ عورت ہی تھا۔ بے وقوف فرانسیسی سفارتکار نے اس کہانی پر یقین کرلیا اور دونوں کا معاشقہ کئی سال تک چلتا رہا۔ اسی دوران شوہ نے برناڈ کو بتایا کہ وہ حاملہ ہو’گئی‘ تھی اور جب برناڈ فرانس میں تھا تو اس نے پیغام بھیجا کہ اس کے ہاں ایک بیٹے کی ولادت ہوئی ہے۔ جب کچھ ماہ بعد برناڈ واپس آیا تو شوہ نے بتایا کہ چین میں خانہ جنگی کی وجہ سے اس نے بچے کو روس کی سرحد کے قریب ایک دور دراز گاﺅں بھیج دیا تھا۔ برناڈ اپنی سفارتی ذمہ داریوں کی وجہ سے فرانس اور پھر منگولیا چلا گیا اور کچھ سال بعد واپس چین آیا تو شوہ نے اسے ایک بچے سے ملوایا اور بتایا کہ یہ ان کا بیٹا تھا۔ اس سارے عرصے کے دوران شوہ فرانسیسی سفارتکاری کی اہم معلومات برناڈ سے حاصل کرتا رہا اور فرانس کے دورے کے دوران دو مزید سفارتکاروں کے ساتھ تعلقات بڑھا کر قیمتی دستاویزات چوری کیں اور چین بھیج دیں۔ فرانس میں جب اس کے بارے میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں تو بالآخر اسے گرفتار کرلیا گیا اور عدالت نے اس کے طبی معائنے کا حکم دے دیا جس میں ثابت ہوا کہ وہ مرد ہے۔ برناڈ نے جب یہ خبر سنی تو اپنے گلے پر تیز دھار بلیڈ پھیر کر خودکشی کرلی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں