131

آپ کا نوکر ہوں، بینگن کا نہیں

ایک بادشاہ کا وزیر بہت خوشامدی تھا۔ بادشاہ جو بھی کہتا وزیر فورا اس کی تائید کرتا۔ ایک دن بادشاہ نے کہا، “بیگن بہت اچھی ترکاری ہے۔” وزیر کہنے لگا، “سرکار، بینگن کے کیا کہنے ہیں۔ ذائقے دار، خوبصورت۔ ترکاریوں کا بادشاہ ہے۔ حکیموں کا کہنا ہے بینگن کئی بیماریوں کا علاج

ہے۔” اگلے دن بادشاہ کسی اور موڈ میں تھا۔ بادشاہوں کا تو یہی حساب ہوتا ہے کہ پل میں ماشہ پل میں تولہ۔ کہنے لگے، “بینگن بری ترکاری ہے۔ “وزیر نے فورا ہاں میں ہاں ملائی اور بولا، “جی حضور، بینگن بھی بھلا کوئی ترکاری ہے۔ کالا منہ ہے۔ نہ شکل ہے نہ ذائقہ۔ حکیموں کا کہنا ہے کہ بینگن کھانے سے خون میں خرابی ہوجاتی ہے۔” بادشاہ نے حیران ہو کر کہا، “کل جب میں بینگن کی تعریف کر رہا تھا تو تم بھی تعریف کر رہے تھے اور آج میری دیکھا دیکھی بینگن کی برائی کر رہے ہو؟” وزیر نے جواب دیا، “جہاں پناہ، میں آپ کا نوکر ہوں بینگن کا نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں