134

کس قسم کے لوگوں سے بچ کر رہنا چاہئے ، آپ بھی جانئے

یہ حسینہ معین کے ایک ڈرامے کی لائین تھی‘ سین کچھ یوں تھا‘ لڑکا خوبصورت‘ امیر اور بااخلاق ہے‘ لڑکی امیر بیوہ اور ایک بچے کی ماں ہے‘ لڑکا لڑکی کو بچے سمیت قبول کرنا چاہتا ہے‘ لڑکی اپنے والد سے مشورہ کرتی ہے اور والد فوراً انکار کر دیتا ہے‘ لڑکی والد سے پوچھتی ہے‘کیا

یہ اچھا انسان نہیں‘ والد جواب دیتا ہے‘یہ آئیڈیل انسان ہے‘ لڑکی پوچھتی ہے‘ پھر انکار کیوں؟ والد جواب دیتا ہے‘ بیٹا لڑکے میں کوئی خرابی نہیں اور مجھے صرف یہ چیز رشتے سے روک رہی ہے‘ بیٹی خاموش رہتی ہے‘والد کہتا ہے‘ میرا تجربہ ہے‘ آپ کو جس شخص میں کوئی خامی نظر نہ آئے آپ اس شخص سے بچ کر رہیں‘ میں نے حسینہ معین کی لکھی یہ لائین25 سال پہلے ٹیلی ویژن پر سنی اور یہ پوری زندگی کیلئے میرا مزاج بن گئی‘ میں ہر اس شخص سے دور رہتا ہوں مجھے جس میں کوئی خامی نظر نہیں آتی‘ میں ہر اس منصوبے سے بھی دور بھاگ جاتا ہوں جس میں کوئی رخنہ‘ کوئی خلا نہیں ہوتا کیونکہ مکمل اور خامی سے پاک صرف خدا کی ذات ہے‘ ہم انسان کچھ بھی ہو جائیں ہم تکمیل کی دہلیز پر قدم نہیں رکھ سکتے‘ ہمارے وزیردفاع اور بجلی اور پانی کے وفاقی وزیر خواجہ آصف کیریئر کے شروع میں بی سی سی آئی بینک میں کام کرتے تھے‘ آغا حسن عابدی بینک کے سربراہ تھے‘ خواجہ آصف نے ایک دن عابدی صاحب سے کہا‘ سر آج کا کام ختم ہو گیا‘ عابدی صاحب مسکرائے اور بولے‘ بیٹا کام کبھی ختم نہیں ہوتا‘ دن ختم ہوتے ہیں‘ آپ کہو‘ آج کا دن ختم ہو گیا‘ ہم انسانوں کی تکمیل بھی نہیں ہوتی‘ ہم عمر بھر تکمیل کیلئے جدوجہد کرتے ہیں اور بس۔ ہم میں سے جو لوگ مکمل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں یا ہمیں جب کوئی شخص یا کوئی منصوبہ مکمل دکھائی دیتا ہے تو ہمیں اس پر یقین نہیں کرنا چاہیے کیونکہ دنیا کا کوئی شخص‘ کوئی منصوبہ‘ کوئی ادارہ اور کوئی پراڈکٹ مکمل نہیں ہو سکتی‘ کوئی شخص اور کوئی ادارہ خدا کی برابری نہیں کر سکتا۔ جاوید چودھری صاحب کے کالم ٹارزنوں کی واپسی سے اقتباس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں