145

دو بھائیوں کی سچی داستان

دونوں بھائی آگے پیچھے 1960 میں پیدا ہوئے۔ یہ ایفریکن امیریکن تھے، کریس اور مائیکل۔ان کا ھوم ٹاؤن رچ منڈ کیلیفورنیا تھا۔ دونوں جب تک ایلیمنٹری سکول میں تھے تو بہت اچھا رزلٹ گھر لاتے تھے۔یہ کل آٹھ بہن بھائی تھے اور بڑی مشکل سے زندگی میں گزارہ کر رہے تھے۔ ان دونوں بھائیوں کی آپس

میں باقی سب سے زیادہ بنتی تھی اور دونوں اکثر چوری بھی مل کر کیا کرتے تھے۔ دونوں کھانے پینے کے بہت شوقین تھے لیکن گھر میں پیسے کی کمی کے باعث ان کو اکثر باہر سے سامان یا پیسے چوری کرنے پڑتے تھے۔ ایک دن جب کریس ہائی سکول میں تھا تو اپنا رزلٹ دیکھا، تین اے اور تین ہی ایف تھے۔ وہ بہت دلبرداشتہ ہوا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی ساری زندگی رچ منڈ کی گلیوں میں عام بلیک لوگوں کی طرح گزرے۔ اس دن اس نے ارادہ کر لیا کہ بہت دل لگا کر ، محنت کر کے پڑھنا لکھنا ہے اور بڑا آدمی بننا ہے۔ اس نے چوری کرنا بالکل چھوڑ دیا اور اپنے بھائی مائیکل کو بھی نصیحت کی کہ وہ بھی اپنا وقت گلیوں میں پھر پھر کر ضائع مت کرے لیکن مائیکل نے اس کی ایک نہ سنی۔ کریس نے کافی محنت کی اور ہائی سکول کے بعد اسے اچھے کالج میں داخلہ مل گیا۔ اس نے کالج بھی اچھے مارکس سے پاس کیا اور پھر لاء سکول میں پہنچ گیا۔ اس نے شاندار نمبروں سے لاء پاس کیا اور وہ اایک اٹارنی بن گیا۔ اس نے بہت سے مجرموں کو سزائیں سنائیں اور ہمیشہ سچ اور

انصاف کے اصولوں پر پابند رہا۔ کریس دنیا بھر میں ایک بہت منصف جج کی حیثیت سے جانا پہچاناجاتا ہے۔ اس کا پورا نام کرسٹوفر ڈرڈن ہے اور وہ امریکہ کے سب سے مقبول چند ایک ججوں میں سے ایک ہے۔ اس کا بھائی مائیکل جو نہ تو اپنی چوری کی عادت سے باز آسکا اور نہ ہی اس نے پڑھائی پر توجہ دی وہ باقی تمام بلیک لوگوں کی طرح ہمیشہ رچ منڈ کی گلیوں کی خاک ہی چھانتا رہا اور آخر کار ڈرگز میں پر گیا۔ اس نے خود ڈرگز استعمال بھی کیے اور بیچنے میں بھی ملوث رہا۔ وہ بیچارہ صرف بیالیس سال کی عمر میں ایڈز کا شکار ہو گیا اور اس دنیا سے چل بسا۔ دونوں بھائیوں کی زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند ہے اور دنیا کے لیے اس میں مثال سامنے ہے کہ محنت کرنے اور اس سے جی چرانے میں کتنا اور کیسا فرق ہوتا ہے۔ جو محنت کرتا ہے وہ کس طرح کامیاب ہوتا ہے اور جو محنت سے جی چراتا ہے، وہ اس زندگی سے کیا لے کر جاتا ہے۔ بات یہ ہے کہ آپ اور میں بھی یہ سیکھیں کہ اپنی اصلاح ہر انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ ہر ایک کی زندگی مشکلات سے عبارت ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہار مان کر کڑوے انسان بن کر بیٹھ جاؤ۔ جو تم سے بن سکے بناؤ۔ اور کسی سے بے جا مقابلہ بازی میں ہرگز مت پڑو۔ جب بڑے بولیں کہ یہ سیدھا راستہ ہے اور بہت مشکل پر اسی پر چلو، تو سمجھ جاؤ کہ انہوں نے ایک عمر گزاری ہے اور وہ اپنے تجربے کی بنیاد پر بولتے ہیں۔ چپ چاپ سیدھے مشکل ترین راستے پر چلتے چلے جاؤ۔ کامیابی مشکل سے ملتی ہے اور دیر لگتی ہے لیکن شارٹ کٹ سے حاصل کی گئی کامیابی ایک سراب ہے جو کبھی دیر پا نہیں ہوتی۔ چپ چاپ کام کیے جاؤ۔اپنا وقت فضولیات یا دنیا کو متاثر کر کے مت ضائع کرو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں